ساحلی گاؤں میں آمنہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ وہ ذہین اور ہنس مکھ تھی، مگر اسے پانی سے بہت ڈر لگتا تھا۔ جب دوسرے بچے دریا میں تیراکی کرتے، تو وہ کنارے کھڑی ہو کر صرف دیکھتی رہتی۔ کچھ لڑکے اسے چھیڑتے، "آمنہ تو پانی سے ڈرتی ہے، وہ کبھی تیر نہیں سکے گی!"
آمنہ کا دل چاہتا کہ وہ بھی ڈر سے نکلے، مگر جیسے ہی پانی کا سوچتی، اس کے پاؤں کانپنے لگتے۔ ایک دن گاؤں کی بوڑھی دائی صفیہ نے اسے دیکھا۔ انہوں نے آمنہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا، "بیٹی، ڈر تو ہر انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی اسے اپنا آقا بنا لیتا ہے اور کوئی اسے اپنا قدم۔"
دائی صفیہ نے آمنہ کو روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے پانی سے دوستی کرنا سکھایا۔ پہلے دن صرف پاؤں بھگوئے، پھر گھٹنوں تک اتری، پھر کمر تک۔ کئی ہفتے گزرے، اور ایک دن آمنہ نے خود تیراکی کے چند چکر لگائے۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔
مگر اصل امتحان تو ابھی باقی تھا۔ ایک شام دریا کے کنارے کھیلتے ہوئے اس کا چھوٹا بھائی عثمان پانی میں پھسل گیا اور گہرے حصے کی طرف بہنے لگا۔ وہ چیخ رہا تھا، "بچاؤ!" آس پاس کوئی بڑا نہ تھا۔ آمنہ کا دل دھڑکنے لگا، مگر اس بار ڈر نے اسے روکا نہیں۔ اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی اور بہادری سے تیر کر بھائی کو کنارے تک لے آئی۔
اس دن پورے گاؤں نے آمنہ کو گلے لگایا۔ وہی بچے جو چھیڑتے تھے، اب اسے "بہادر آمنہ" کہنے لگے۔ آمنہ نے مسکرا کر کہا، "ڈر کو جیتنے کا واحد طریقہ ہے — ایک قدم آگے بڑھنا۔"
سبق: حوصلہ اور ہمت سے بڑی کوئی طاقت نہیں — ڈر کو ایک ایک قدم سے جیتا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں