منگل، 6 اکتوبر، 2026

غصے کا نقصان

نعمان بہت جلد غصے میں آ جاتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ چلاتا اور چیزیں توڑ دیتا۔ گھر والے اس سے پریشان رہتے۔ ایک دن اس کے والد نے اسے کیلوں سے بھرا ایک تھیلا دیا اور کہا: بیٹا، جب بھی تمہیں غصہ آئے تو باغ کی لکڑی کی دیوار میں ایک کیل ٹھونک دینا۔ نعمان نے پہلے دن دس کیلیں ٹھونکیں۔ دوسرے دن آٹھ، پھر پانچ۔ آہستہ آہستہ اس نے غصے پر قابو پانا سیکھ لیا اور کیلوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ ایک دن ایسا آیا جب اس نے ایک بھی کیل نہ ٹھونکی۔ وہ خوشی سے والد کے پاس گیا۔ والد نے کہا: اب ہر اس دن ایک کیل نکال دینا جب تم غصہ نہ کرو۔ کچھ ہفتوں میں ساری کیلیں نکل گئیں، مگر دیوار میں جگہ جگہ سوراخ رہ گئے۔ والد نے دیوار کی طرف اشارہ کر کے کہا: دیکھو بیٹا، غصے میں کہے گئے الفاظ بھی دلوں میں ایسے ہی سوراخ کر جاتے ہیں۔ معافی مانگنے سے کیل تو نکل جاتا ہے مگر نشان رہ جاتا ہے۔ نعمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس دن کے بعد اس نے کبھی غصے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچائی۔

سبق: غصے میں کہی ہوئی بات دلوں میں نشان چھوڑ جاتی ہے، اس لیے غصے پر قابو رکھو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ بلاگ تلاش کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.