منگل، 6 اکتوبر، 2026

وقت کی قدر

سلیم ایک ذہین نوجوان تھا مگر اس کی ایک بری عادت تھی: وہ ہر کام کل پر ٹالتا تھا۔ پڑھائی ہو یا کوئی ضروری کام، وہ کہتا: کل کر لوں گا۔ اس کے دوست آگے بڑھتے گئے اور وہ پیچھے رہتا گیا۔ ایک دن اس کے دادا جی نے اسے اپنے پاس بلایا اور اپنی پرانی گھڑی دکھائی۔ انہوں نے کہا: بیٹا، دیکھو یہ سوئیاں کبھی رکتی نہیں، کبھی پیچھے نہیں ہٹتیں۔ جو وقت گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ دولت ضائع ہو تو کما لی جاتی ہے، مگر ضائع ہوا وقت کبھی نہیں ملتا۔ یہ بات سلیم کے دل کو لگی۔ اس نے اسی دن سے اپنی عادت بدلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ وقت پر سوتا، وقت پر اٹھتا اور ہر کام وقت پر کرتا۔ چند مہینوں میں اس کی زندگی بدل گئی۔ سبق: وقت سب سے قیمتی دولت ہے، اسے ضائع نہ کرو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ بلاگ تلاش کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.