منگل، 6 اکتوبر، 2026

لالچ کا انجام

ایک تاجر اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ہل کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ اس نے کھودا تو مٹی کا ایک گھڑا نکلا جو سونے کے سکوں سے بھرا تھا۔ تاجر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے سوچا: اگر میں یہ بات کسی کو نہ بتاؤں تو سارا سونا میرا ہو جائے گا۔ لالچ نے اس کے دل پر قبضہ کر لیا۔ اس نے گھڑا اپنے صحن میں گہرا گڑھا کھود کر دبا دیا اور اوپر مٹی ڈال دی۔ وہ روز رات کو چھپ کر اس جگہ کو دیکھتا۔ ایک دن زور کی بارش ہوئی۔ پانی صحن میں جمع ہو گیا اور زمین دھنس گئی۔ جب بارش رکی تو تاجر بھاگا بھاگا وہاں پہنچا۔ گڑھا دھنس چکا تھا اور گھڑا ٹوٹ کر سکے کیچڑ میں بکھر چکے تھے۔ آدھے سکے بہہ چکے تھے۔ تاجر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ اسے سمجھ آیا کہ جو چیز ناجائز طریقے سے حاصل کی جائے وہ کبھی نہیں رہتی۔ سبق: لالچ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ بلاگ تلاش کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.