منگل، 6 اکتوبر، 2026
معافی کی مٹھاس
حسن اور علی بچپن کے دوست تھے۔ دونوں ایک ساتھ کھیلتے، ایک ساتھ پڑھتے۔ ایک دن کھیل میں ایک چھوٹی سی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ بات بڑھتی گئی اور دونوں نے ایک دوسرے سے بات کرنا بند کر دی۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے، لیکن دونوں کی ضد قائم رہی۔ ایک سرد رات حسن کو تیز بخار ہو گیا۔ اس کی حالت بگڑتی گئی۔ جب علی کو یہ خبر ملی تو اس کا دل بے چین ہو گیا۔ ساری ضد ایک طرف رکھ کر وہ فوراً حسن کے گھر پہنچا۔ حسن نے علی کو دیکھا تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ علی نے کہا: مجھے معاف کر دو۔ حسن نے اسے گلے لگا لیا۔ اس دن کے بعد ان کی دوستی پہلے سے بھی مضبوط ہو گئی۔ دونوں نے سیکھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے نہیں توڑے جاتے۔ سبق: معاف کر دینا دل کو سکون دیتا ہے اور ٹوٹے رشتوں کو جوڑ دیتا ہے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
یہ بلاگ تلاش کریں
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
-
نعمان بہت جلد غصے میں آ جاتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ چلاتا اور چیزیں توڑ دیتا۔ گھر والے اس سے پریشان رہتے۔ ایک دن اس کے والد نے اسے کی...
-
ایک تاجر اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ہل کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ اس نے کھودا تو مٹی کا ایک گھڑا نکلا جو سونے کے سکوں سے بھرا تھا۔ تاجر کی ...
-
خوش آمدید! یہ "دادا جی کے قصے" کا آفیشل بلاگ ہے — آپ کے اپنے یوٹیوب چینل کا گھر۔ یہاں آپ کو ملیں گے سنہرے اخلاقی قصے، جو دلوں کو چ...

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں