منگل، 6 اکتوبر، 2026

محنت کا صلہ

گاؤں میں کریم نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی اور وہ دن رات اسی میں محنت کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ کوئی کہتا: دیکھو کریم کو، اتنی محنت کرتا ہے پھر بھی امیر نہیں ہوتا۔ کریم سنتا اور مسکرا کر اپنے کام میں لگ جاتا۔ اس کا یقین تھا کہ محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ ایک سال گاؤں کے چوہدری نے اعلان کیا کہ جس کی فصل سب سے اچھی ہوگی اسے بڑا انعام ملے گا۔ کریم نے یہ سن کر اپنی محنت دگنی کر دی۔ وہ صبح سویرے کھیت جاتا، بیج بوتا، پانی دیتا اور گھاس پھوس صاف کرتا۔ دھوپ ہو یا بارش، وہ اپنے کھیت میں موجود رہتا۔ فصل کے دن جب سب کی گندم دیکھی گئی تو کریم کی فصل سب سے سنہری اور بھری ہوئی نکلی۔ چوہدری نے اسے انعام دیا اور سب کے سامنے اس کی تعریف کی۔ وہی لوگ جو مذاق اڑاتے تھے اب شرمندہ کھڑے تھے۔ سبق: محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، دیر ہو سکتی ہے مگر پھل ضرور ملتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ بلاگ تلاش کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.