منگل، 6 اکتوبر، 2026

ہمسائے کا حق

ایک عورت نے جمعے کے دن مزیدار کھانا بنایا۔ کھانے کی خوشبو پورے محلے میں پھیل گئی اور پڑوس تک پہنچی۔ اس کے شوہر نے کہا: خوشبو پڑوسی کے گھر بھی گئی ہوگی، ان کے بچے بھی خوش ہوں گے۔ تھوڑا کھانا ان کے گھر بھیج دو۔ عورت نے ایک صاف پلیٹ میں کھانا سجا کر اپنے بیٹے کے ہاتھ پڑوس بھیج دیا۔ دروازہ پڑوسن نے کھولا۔ پلیٹ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بولی: آج ہمارے گھر میں پکانے کو کچھ نہ تھا، بچے بھوکے تھے۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔ اس دن کے بعد دونوں گھرانے ایک دوسرے کا خیال رکھنے لگے۔ خوشی ہو یا غم، وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے۔

سبق: ہمسائے کا خیال رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔

علم کی روشنی

گاؤں میں عارف نام کا ایک چرواہا لڑکا رہتا تھا۔ وہ دن بھر بکریاں چراتا مگر اس کا دل پڑھنے کو چاہتا تھا۔ وہ اکثر مدرسے کے بچوں کو دیکھ کر سوچتا: کاش میں بھی پڑھ سکتا۔ ایک دن گاؤں کے استاد نے اس کی یہ خواہش دیکھی اور کہا: بیٹا، روز شام کو میرے پاس آ جایا کرو، میں تمہیں پڑھاؤں گا۔ عارف دن بھر بکریاں چراتا اور شام کو استاد کے پاس پڑھنے جاتا۔ سردی ہو یا گرمی، وہ کبھی ناغہ نہ کرتا۔ کچھ سالوں میں وہ اتنا پڑھ گیا کہ گاؤں کا پہلا لڑکا بنا جو شہر کے بڑے مدرسے میں داخل ہوا۔ جب وہ تعلیم مکمل کر کے لوٹا تو پورے گاؤں نے اس کا استقبال کیا۔ عارف نے گاؤں میں ایک مدرسہ کھولا تاکہ کوئی بچہ علم سے محروم نہ رہے۔

سبق: علم وہ روشنی ہے جو زندگی کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔

وعدے کی پابندی

تاجر سلیمان نے اپنے ملازم کریم سے وعدہ کیا تھا کہ عید پر اسے نیا جوڑا دلوائے گا۔ مگر اس سال کاروبار میں بڑا نقصان ہو گیا۔ دوستوں نے کہا: وعدہ بھول جاؤ، حالات خراب ہیں، کوئی برا نہیں مانے گا۔ مگر سلیمان نے کہا: وعدہ وعدہ ہوتا ہے، حالات جیسے بھی ہوں۔ اس نے اپنی ضرورت کی چیزیں کم کر دیں، مگر عید سے پہلے ملازم کے لیے نیا جوڑا خرید لیا۔ جب اس نے جوڑا کریم کو دیا تو کریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دل سے دعا دی: اللہ آپ کے کاروبار میں برکت دے۔ اور واقعی، اس کے بعد سلیمان کا کاروبار پہلے سے بہتر چلنے لگا۔ سلیمان اکثر کہتا: وعدہ نبھانے سے جو دعا ملتی ہے وہ کسی دولت سے کم نہیں۔

سبق: وعدہ نبھانے والا اللہ کی مدد پاتا ہے۔

شکر کی برکت

رشید ایک غریب مزدور تھا۔ اس کے پاس چھوٹا سا گھر تھا اور بمشکل گزر بسر ہوتی تھی، مگر وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا۔ کھانا کم ہوتا تو کہتا: شکر ہے کچھ تو ہے۔ اس کا پڑوسی دولت مند تھا مگر ہر وقت شکایت کرتا رہتا: یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔ ایک دن پڑوسی نے حیرت سے پوچھا: تمہارے پاس تو کچھ بھی نہیں، پھر بھی تم خوش کیسے رہتے ہو؟ رشید نے مسکرا کر کہا: جو ہے اس پر شکر کرو تو دل امیر ہو جاتا ہے، اور شکایت کرنے والے کا دل ہمیشہ غریب رہتا ہے۔ کچھ عرصے بعد رشید کے بیٹے کو شہر میں اچھی نوکری مل گئی اور ان کے حالات بدل گئے۔ پڑوسی نے یہ دیکھ کر اپنی عادت بدلی اور اسے بھی سکون ملنے لگا۔

سبق: شکر کرنے والے کو اور ملتا ہے، شکایت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

غصے کا نقصان

نعمان بہت جلد غصے میں آ جاتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ چلاتا اور چیزیں توڑ دیتا۔ گھر والے اس سے پریشان رہتے۔ ایک دن اس کے والد نے اسے کیلوں سے بھرا ایک تھیلا دیا اور کہا: بیٹا، جب بھی تمہیں غصہ آئے تو باغ کی لکڑی کی دیوار میں ایک کیل ٹھونک دینا۔ نعمان نے پہلے دن دس کیلیں ٹھونکیں۔ دوسرے دن آٹھ، پھر پانچ۔ آہستہ آہستہ اس نے غصے پر قابو پانا سیکھ لیا اور کیلوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ ایک دن ایسا آیا جب اس نے ایک بھی کیل نہ ٹھونکی۔ وہ خوشی سے والد کے پاس گیا۔ والد نے کہا: اب ہر اس دن ایک کیل نکال دینا جب تم غصہ نہ کرو۔ کچھ ہفتوں میں ساری کیلیں نکل گئیں، مگر دیوار میں جگہ جگہ سوراخ رہ گئے۔ والد نے دیوار کی طرف اشارہ کر کے کہا: دیکھو بیٹا، غصے میں کہے گئے الفاظ بھی دلوں میں ایسے ہی سوراخ کر جاتے ہیں۔ معافی مانگنے سے کیل تو نکل جاتا ہے مگر نشان رہ جاتا ہے۔ نعمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس دن کے بعد اس نے کبھی غصے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچائی۔

سبق: غصے میں کہی ہوئی بات دلوں میں نشان چھوڑ جاتی ہے، اس لیے غصے پر قابو رکھو۔

وقت کی قدر

سلیم ایک ذہین نوجوان تھا مگر اس کی ایک بری عادت تھی: وہ ہر کام کل پر ٹالتا تھا۔ پڑھائی ہو یا کوئی ضروری کام، وہ کہتا: کل کر لوں گا۔ اس کے دوست آگے بڑھتے گئے اور وہ پیچھے رہتا گیا۔ ایک دن اس کے دادا جی نے اسے اپنے پاس بلایا اور اپنی پرانی گھڑی دکھائی۔ انہوں نے کہا: بیٹا، دیکھو یہ سوئیاں کبھی رکتی نہیں، کبھی پیچھے نہیں ہٹتیں۔ جو وقت گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ دولت ضائع ہو تو کما لی جاتی ہے، مگر ضائع ہوا وقت کبھی نہیں ملتا۔ یہ بات سلیم کے دل کو لگی۔ اس نے اسی دن سے اپنی عادت بدلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ وقت پر سوتا، وقت پر اٹھتا اور ہر کام وقت پر کرتا۔ چند مہینوں میں اس کی زندگی بدل گئی۔ سبق: وقت سب سے قیمتی دولت ہے، اسے ضائع نہ کرو۔

لالچ کا انجام

ایک تاجر اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ ہل کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ اس نے کھودا تو مٹی کا ایک گھڑا نکلا جو سونے کے سکوں سے بھرا تھا۔ تاجر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے سوچا: اگر میں یہ بات کسی کو نہ بتاؤں تو سارا سونا میرا ہو جائے گا۔ لالچ نے اس کے دل پر قبضہ کر لیا۔ اس نے گھڑا اپنے صحن میں گہرا گڑھا کھود کر دبا دیا اور اوپر مٹی ڈال دی۔ وہ روز رات کو چھپ کر اس جگہ کو دیکھتا۔ ایک دن زور کی بارش ہوئی۔ پانی صحن میں جمع ہو گیا اور زمین دھنس گئی۔ جب بارش رکی تو تاجر بھاگا بھاگا وہاں پہنچا۔ گڑھا دھنس چکا تھا اور گھڑا ٹوٹ کر سکے کیچڑ میں بکھر چکے تھے۔ آدھے سکے بہہ چکے تھے۔ تاجر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ اسے سمجھ آیا کہ جو چیز ناجائز طریقے سے حاصل کی جائے وہ کبھی نہیں رہتی۔ سبق: لالچ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔

معافی کی مٹھاس

حسن اور علی بچپن کے دوست تھے۔ دونوں ایک ساتھ کھیلتے، ایک ساتھ پڑھتے۔ ایک دن کھیل میں ایک چھوٹی سی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ بات بڑھتی گئی اور دونوں نے ایک دوسرے سے بات کرنا بند کر دی۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے، لیکن دونوں کی ضد قائم رہی۔ ایک سرد رات حسن کو تیز بخار ہو گیا۔ اس کی حالت بگڑتی گئی۔ جب علی کو یہ خبر ملی تو اس کا دل بے چین ہو گیا۔ ساری ضد ایک طرف رکھ کر وہ فوراً حسن کے گھر پہنچا۔ حسن نے علی کو دیکھا تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ علی نے کہا: مجھے معاف کر دو۔ حسن نے اسے گلے لگا لیا۔ اس دن کے بعد ان کی دوستی پہلے سے بھی مضبوط ہو گئی۔ دونوں نے سیکھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے نہیں توڑے جاتے۔ سبق: معاف کر دینا دل کو سکون دیتا ہے اور ٹوٹے رشتوں کو جوڑ دیتا ہے۔

محنت کا صلہ

گاؤں میں کریم نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی اور وہ دن رات اسی میں محنت کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ کوئی کہتا: دیکھو کریم کو، اتنی محنت کرتا ہے پھر بھی امیر نہیں ہوتا۔ کریم سنتا اور مسکرا کر اپنے کام میں لگ جاتا۔ اس کا یقین تھا کہ محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ ایک سال گاؤں کے چوہدری نے اعلان کیا کہ جس کی فصل سب سے اچھی ہوگی اسے بڑا انعام ملے گا۔ کریم نے یہ سن کر اپنی محنت دگنی کر دی۔ وہ صبح سویرے کھیت جاتا، بیج بوتا، پانی دیتا اور گھاس پھوس صاف کرتا۔ دھوپ ہو یا بارش، وہ اپنے کھیت میں موجود رہتا۔ فصل کے دن جب سب کی گندم دیکھی گئی تو کریم کی فصل سب سے سنہری اور بھری ہوئی نکلی۔ چوہدری نے اسے انعام دیا اور سب کے سامنے اس کی تعریف کی۔ وہی لوگ جو مذاق اڑاتے تھے اب شرمندہ کھڑے تھے۔ سبق: محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، دیر ہو سکتی ہے مگر پھل ضرور ملتا ہے۔

سچ کی طاقت

بلال ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ بہت شریف اور سچا لڑکا تھا۔ ایک دن وہ بازار سے سودا لے کر گھر لوٹ رہا تھا کہ اسے راستے میں ایک چمڑے کا بٹوہ پڑا ملا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، کوئی نظر نہ آیا۔ بٹوہ اٹھا کر اس نے کھولا تو اس میں کچھ نوٹ اور ایک شناختی کارڈ تھا۔ بلال کے دل میں ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ ان پیسوں سے وہ وہ کھلونے خرید سکتا ہے جن کی اسے مدت سے خواہش تھی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ لیکن پھر اسے اپنے دادا جی کی بات یاد آئی جو وہ اکثر کہتے تھے: بیٹا، دوسروں کی امانت میں خیانت کبھی نہ کرنا، چاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ ہو۔ بلال نے فوراً فیصلہ کر لیا۔ وہ کارڈ پر لکھے پتے پر گیا اور دستک دی۔ دروازہ ایک بوڑھے شخص نے کھولا جو پریشان بیٹھا تھا۔ بلال نے بٹوہ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا: بیٹا، اس میں میری دوائیوں کے پیسے تھے۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔ اس دن بلال کو سمجھ آیا کہ سچائی کا مزہ کسی کھلونے سے بڑھ کر ہے۔ سبق: سچائی اور ایمانداری کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔

خوش آمدید!

خوش آمدید! یہ "دادا جی کے قصے" کا آفیشل بلاگ ہے — آپ کے اپنے یوٹیوب چینل کا گھر۔ یہاں آپ کو ملیں گے سنہرے اخلاقی قصے، جو دلوں کو چھو لیں اور زندگی کو سنوار دیں۔


ہر قصے میں ایک بات — یہی ہمارا وعدہ ہے۔ ہر ہفتے ایک نئی کہانی آپ کی منتظر ہوگی۔ تو جڑے رہیے، پڑھتے رہیے، اور ان قیمتی باتوں کو اپنی زندگی میں اپناتے رہیے۔

یہ بلاگ تلاش کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.