تاجر سلیمان نے اپنے ملازم کریم سے وعدہ کیا تھا کہ عید پر اسے نیا جوڑا دلوائے گا۔ مگر اس سال کاروبار میں بڑا نقصان ہو گیا۔ دوستوں نے کہا: وعدہ بھول جاؤ، حالات خراب ہیں، کوئی برا نہیں مانے گا۔ مگر سلیمان نے کہا: وعدہ وعدہ ہوتا ہے، حالات جیسے بھی ہوں۔ اس نے اپنی ضرورت کی چیزیں کم کر دیں، مگر عید سے پہلے ملازم کے لیے نیا جوڑا خرید لیا۔ جب اس نے جوڑا کریم کو دیا تو کریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دل سے دعا دی: اللہ آپ کے کاروبار میں برکت دے۔ اور واقعی، اس کے بعد سلیمان کا کاروبار پہلے سے بہتر چلنے لگا۔ سلیمان اکثر کہتا: وعدہ نبھانے سے جو دعا ملتی ہے وہ کسی دولت سے کم نہیں۔
سبق: وعدہ نبھانے والا اللہ کی مدد پاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں