رشید ایک غریب مزدور تھا۔ اس کے پاس چھوٹا سا گھر تھا اور بمشکل گزر بسر ہوتی تھی، مگر وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا۔ کھانا کم ہوتا تو کہتا: شکر ہے کچھ تو ہے۔ اس کا پڑوسی دولت مند تھا مگر ہر وقت شکایت کرتا رہتا: یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔ ایک دن پڑوسی نے حیرت سے پوچھا: تمہارے پاس تو کچھ بھی نہیں، پھر بھی تم خوش کیسے رہتے ہو؟ رشید نے مسکرا کر کہا: جو ہے اس پر شکر کرو تو دل امیر ہو جاتا ہے، اور شکایت کرنے والے کا دل ہمیشہ غریب رہتا ہے۔ کچھ عرصے بعد رشید کے بیٹے کو شہر میں اچھی نوکری مل گئی اور ان کے حالات بدل گئے۔ پڑوسی نے یہ دیکھ کر اپنی عادت بدلی اور اسے بھی سکون ملنے لگا۔
سبق: شکر کرنے والے کو اور ملتا ہے، شکایت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں