پرانے وقتوں میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رحیم نام کا ایک غریب لڑکا رہتا تھا۔ اس کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ ایک کچی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ دادی دن بھر چرخی کاٹتی اور رحیم کھیتوں میں مزدوری کر کے گھر کا خرچ چلاتا۔
ایک سرد صبح رحیم کھیت جا رہا تھا کہ اس نے ایک چھوٹی چڑیا کو زمین پر پڑے دیکھا۔ اس کا ایک پر زخمی تھا اور وہ سردی سے ٹھٹھر رہی تھی۔ رحیم نے اسے نرمی سے اٹھایا، اپنے کرتے میں لپیٹا اور گھر لے آیا۔ دادی نے حیرت سے پوچھا: "بیٹا، یہ چھوٹا پرندہ تیرے کس کام آئے گا؟" رحیم مسکرا کر بولا: "دادی، اسے میری ضرورت ہے، اور یہی میرا کام ہے۔"
رحیم نے کئی ہفتوں تک چڑیا کی دیکھ بھال کی۔ وہ اسے دانے کھلاتا اور پانی پلاتا۔ جب اس کے پر ٹھیک ہو گئے تو اس نے اسے کھلے آسمان میں چھوڑ دیا۔ چڑیا نے اس کے سر کے گرد ایک چکر لگایا، گویا شکریہ ادا کر رہی ہو، اور پھر اڑ گئی۔
سالوں گزر گئے۔ ایک رات گاؤں میں شدید طوفان آیا۔ بارش اتنی تیز تھی کہ ندی میں طغیانی آ گئی۔ صبح کے وقت گاؤں کے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر اونچی جگہ کی طرف بھاگنے لگے۔ رحیم دادی کا ہاتھ پکڑے بھیڑ میں شامل تھا، مگر دادی کی چال سست تھی اور وہ پیچھے رہ گئے۔ پانی تیزی سے بڑھ رہا تھا اور ان کے اردگرد کا راستہ بند ہونے لگا۔
اچانک رحیم نے دیکھا کہ ایک چڑیا — وہی چڑیا جس کے پر پر سفید دھبہ تھا — بار بار ایک طرف اڑ کر زور زور سے چہچہا رہی ہے۔ رحیم نے دادی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور چڑیا کی طرف چل پڑا۔ وہاں ایک پرانا ٹیلا تھا، اونچی زمین جو پانی سے محفوظ تھی۔
جب سیلاب اترا تو رحیم نے دیکھا کہ کئی گھر پانی میں بہہ گئے تھے، مگر وہ اور دادی محفوظ تھے۔ اس دن گاؤں کے سب لوگوں نے سمجھا کہ رحیم کی چھوٹی سی نیکی نے اس کی جان بچائی تھی۔
سبق: احسان کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ جو دوسروں پر مہربانی کرتا ہے، وہی مہربانی کسی نہ کسی صورت اس کے پاس لوٹ کر آتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں