منگل، 6 اکتوبر، 2026

عاجزی کی طاقت


 


جنگل کے کنارے ایک بہت بڑا ہاتھی رہتا تھا۔ وہ اتنا طاقتور تھا کہ درختوں کی موٹی ٹہنیاں بھی اس کے سامنے جھک جاتی تھیں۔ سب جانور اسے "مہاراجہ" کہتے تھے، اور وہ اس نام پر اتنا مغرور تھا کہ چھوٹے جانوروں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تھا۔

ایک دن مہاراجہ تالاب کے کنارے پانی پی رہا تھا۔ وہیں چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اپنے بل کی طرف دانے لے کر جا رہی تھی۔ مہاراجہ نے ہنس کر اپنی سونڈ سے پانی ان پر چھڑک دیا۔ "دیکھو، تمہاری پوری بستی میرے ایک چھینک کے برابر ہے!" بیچاری چیونٹیاں بھیگ گئیں اور ان کے دانے پانی میں بہہ گئے۔

بڑی چیونٹی نے نرمی سے کہا: "مہاراجہ، طاقت کا غلط استعمال کرنے والے کو ایک دن اپنی طاقت کی کمزوری کا بھی احساس ہوتا ہے۔" مہاراجہ نے قہقہہ لگایا اور وہاں سے چلا گیا۔

کچھ دن بعد جنگل میں شکاریوں نے مضبوط جال بچھائے۔ مہاراجہ انجانے میں ایک جال میں پھنس گیا۔ اس نے پوری طاقت سے زور لگایا، چیخا چلایا، درختوں کو ہلایا، مگر رسیاں اتنی مضبوط تھیں کہ وہ انہیں توڑ نہ سکا۔ شکاری قریب آ رہے تھے اور مہاراجہ کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔

اچانک چیونٹیوں کی وہی قطار وہاں پہنچ گئی۔ ہزاروں چیونٹیاں رسیوں پر چڑھ گئیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے جبڑوں سے انہیں کاٹنے لگیں۔ گھنٹوں کی محنت کے بعد ایک ایک کر کے رسیاں کمزور ہو گئیں اور مہاراجہ آزاد ہو گیا۔

مہاراجہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اپنی سونڈ جھکا کر کہا: "مجھے معاف کر دو۔ میں نے سوچا تھا کہ بڑا ہونا ہی سب کچھ ہے، مگر آج تم ننھی چیونٹیوں نے میری جان بچائی۔"

اس دن سے مہاراجہ بالکل بدل گیا۔ وہ چھوٹے جانوروں کی مدد کرنے لگا اور جلد ہی جنگل کا سب سے پیارا جانور بن گیا۔

سبق: غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے، اور عاجزی انسان کو سب سے بلند کرتی ہے۔ آپ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، چھوٹوں کی قدر کرنا ہی اصل بڑائی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ بلاگ تلاش کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.